سعودی وفد کی پاکستان آمد، معاشی حالات میں بہتری کی نوید
پاکستان معاشی بحالی کے سفر پر گامزن ہے۔ موجودہ حکومت کی قیادت میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا مثبت رجحان متواتر بڑھ رہا ہے۔ سعودی عرب کی پاکستان سے دوستی رسمی، عارضی، مصلحت کی دوستی نہیں بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے عوام ایک دوسرے سے روحانی تعلق کے تحت باہم جڑے ہوئے ہیں۔ مشکلات کے دور میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی ایک مستقل خصوصیت رہی ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کا تقریباً 100رکنی وفدسعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں پاکستان پہنچ رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں کو حتمی شکل دی جاسکے اس حوالے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں ریکوڈک، گرین ریفائنری، دیامر بھاشا ڈیم، زراعت اور خیبرپختونخوا میں سیاحت زون میں پہلے مرحلے میں 5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے ابتدائی کارروائی کو عملی جامعہ پہنانے کے حوالے سے مذاکرات کئے جائینگے۔ پنجاب میں وفاقی حکومت کی جانب سے لگائے گئے آر ایل این جی پاور پلانٹس کو بھی سعودی حکام کے سامنے نجکاری کے مقاصد کیلئے پیش کیا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب کے وفد میں سعودی وزیر برائے پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمٰن عبدالمحسن الفادلی، وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر ابراہیم الخورائف، نائب وزیر سرمایہ کاری بدر البدر، سعودی خصوصی کمیٹی کے سربراہ محمد مازید التویجری اور وزارت توانائی اور سعودی فنڈ برائے عمومی سرمایہ کاری کے سینئر حکام شامل ہیں۔سعودی وفد کی صدر مملک آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ محمد اورنگزیب اور ہم منصب وزرا، چیف آف آرمی اسٹاف اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی سے ملاقاتیں متوقع ہیں اس کے ساتھ ساتھ سعودی ولی عہد کا مئی کے پہلے یا دوسرے ہفتے پاکستان آنے کا امکان ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے آئندہ ماہ ریکوڈک کاپر گولڈ پروجیکٹ میں ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے جس کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ سرمایہ کاری ہموار کرنے اور منصوبے کی تکمیل کیلئے وزیر اعظم وزارت خزانہ کی کمیٹی بنائیں گے جس میں پاکستان کی جانب سے تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔یہ سرمایہ کاری ملک میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گی اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے مینڈیٹ کو حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔
یاد رہے کہ مکہ مکرمہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی تھی۔ سعودی عرب نے 5 ارب ڈالرز سے پاکستان میں سرمایہ کاری پیکیج کا آغاز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ مارچ 2024ء میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بھی سعودی عرب کا اہم ترین دورہ کیا تھا اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی جس میں دفاعی امور کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی جانب پاکستانی معیشت میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اس سے قبل بھی گزشتہ سال آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے سعودی ترقیاتی فنڈ کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کروائی گئی رقم کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی تھی۔
اب بھی امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں نو منتخب حکومت کے قیام کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت کی ملک کے چیلنجز خصوصاً معاشی استحکام کیلئے کوششیں جلد بر آور ثابت ہو نگی۔اس حوالے سے اس سعودی وفد کا یہ دورہ پاکستان کے معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور پاکستان۔ سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان معاشی استحکام کے سفر پر گامزن ہوسکے گا۔